28 اکتوبر 2012 - 20:30

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اخضر ابراہیمی کے امن منصوبے کی بنیاد پر شام میں آج غیر مستحکم جنگ بندی کا تیسرا دن رہا.

ابنا: اخضر ابراہیمی کے اس منصوبے کے مطابق شام میں عید کے دن سے چار روزہ فائر بندی کا نفاذ عمل میں آیا جبکہ پہلے ہی دن بعض دہشتگرد گروہوں نے اس جنگ بندی کی مخالفت کرتے ہوئے شام کے مختلف شہروں میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کی ۔ شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اخضر ابراہیمی نے بعض مسلح گروہوں کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فائر بندی کے نفاذ میں ناکامی، شام میں امن کی برقراری سے متعلق کوششیں ختم ہوجانے کا باعث نہیں بننی چاہيئے ۔ انھوں نے ماسکو میں روس کے وزیر خارجہ کے ساتھہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ امن مبصرین شام واپس بھیجے جانے کے بارے میں روس کی تاکید کے باوجود اقوام متحدہ،اپنےامن مبصرین، شام روانہ کرنے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں رکھتی ۔ اخضر ابراہیمی، شام میں جنگ بندی کے اختتام کے موقع پر راہ حل کی تلاش کے دائرے میں گفتگو کیلئے ماسکو پہنچے ہیں جس کے بعد وہ چین بھی جائیں گے ۔ بحران کے آغاز سے ہی روس، شام کے سلسلے میں کافی سرگرم عمل رہا ہے اور اب بھی اس نے ایک منصوبہ پیش کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے امن مبصرین، دوبارہ شام بھیجے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے جبکہ مغرب نے روس کے اس منصوبے کی مخالفت کی ہے  ۔ اس سے قبل  اخضر ابراہیمی نے شام میں جنگ بندی کے بارے میں اپنی کافی امید کا اظہار کیا تھا جبکہ شام میں دہشتگرد گروہوں کے الٹی میٹم سے یہ بات، شروع سے ہی مکمل طور پر واضح تھی کہ یہ گروہ، جنگ بندی کا منصوبہ ناکام بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ امن منصوبے سے حکومت شام کے اتفاق کرلینے کے باوجود بعض مخالف گروہوں نے یہ اعلان کیا کہ فائر بندی کا نفاذ عمل میں نہیں آسکے گا اور پھر ان مسلح دہشتگرد گروہوں نے شام کے مختلف علاقوں میں بم دھماکے اور فائرنگ کرکے جنگ بندی کو عملی طور پر ناکام بنادیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ مغرب، شام کو بتدریج کمزور کرنے کے درپے ہے تاکہ شام پر حملے کا بہانہ بدستور بنا رہے ۔ شام میں تقریبا دو برسوں کی بدامنی کے دوران، مغرب نے امریکہ اور بعض علاقائی ملکوں کے تعاون سے اس ملک میں بحران کو مزید پیچیدہ بنانے کے ساتھہ ساتھہ حملے کا راستہ ہموار کرکے اپنے شرمناک مقاصد حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی ۔ اسرائیل کے خلاف محاذ کی فرنٹ لائن سے شام کو نکال کر اسے صیہونی حکومت کا ہمنوا بنانے کی کوشش، سالوں سے وہائٹ ہاؤس کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے ۔ اقوام متحدہ کے ذریعے شام کے حالات، صیہونی حکومت کے مفاد میں تبدیل کرنے میں اپنی مسلسل ناکامیوں کے بعد یورپ وامریکہ نے اب اس ملک میں خانہ جنگی اور بتدریج تباہ کرنیوالی جنگ کا حربہ اپنایا ہے تاکہ امریکہ اور علاقے کے بعض عرب شیوخ کے ڈالروں کے بل بوتے پر آلۂ کار دہشتگردوں کے استعمال سے ناپاک عزائم پورے کئے جاسکیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اخضر ابراہیمی کے امن منصوبے کو، کہ جسکا شام کی حکومت اور شام کے بہت سے حکومت مخالفین نے بھی خیر مقدم کیا تھا، مغرب کے حمایت یافتہ دہشتگرد گروہوں کی خلاف ورزیوں سے شکست سے دوچار کردیا گیا تاکہ مغرب کے خیال کے مطابق بعد کے اقدام کی راہ ہموار کی جاسکے ۔ 
.....
/169